نئی دہلی3ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نکاح ، طلاق اور دیگر امور سے متعلق فیصلوں کے لیے دار القضا کے قیام کو غیر آئینی قرار دینے سے متعلق مسلم خاتون کی ایک عرضی پر سپریم کورٹ میں غور و خوض کیا گیا ۔
چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بینچ نے عرضی داخل کرنے والی ذکری سے کہا کہ تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کے معاملہ پر جاری سماعت میں فریق بننے کیلئے وہ از سر نو عرضی داخل کریں۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال فوری تین طلاق کو ختم کرنے کا فیصلہ سنانے والی عدالت عظمی نے تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے لیے 26مارچ کو پانچ رکنی آئینی بینچ کی تشکیل کی تھی ۔اترپردیش کی رہنے والی 21 سالہ ذکریٰ دوبچوں کی ماں ہیں ۔عدالت میں ان کی جانب سے وکیل اشونی اپادھیائے پیش ہوئے۔ذکریٰ نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ دفعہ 498اے کے تحت تین طلاق کو ظلم جبکہ نکاح حلالہ ، نکاح متعہ اور نکاح مسیارکو دفعہ 375کے تحت آبروریزی قرار دیا جائے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ تعدد ازدواج آئی پی سی کی دفعہ 494کے تحت جرم ہے جبکہ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا نکاح حلالہ اور تعددازدواج کی اجازت دیتا ہے۔ ذکریٰ نے اپنی عرضی میں تین طلاق ، نکاح حلالہ اور دیگر قانونوں اور روایتوں کے تحت اپنے استحصال کی بات بھی کہی ہے ۔ خیال رہے کہ ذکری کو دو مرتبہ طلاق کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے ہی شوہر سے نکاح کرنے کے لیے نکاح حلالہ سے گزرنا پڑا۔